میرے والدِ گرامی : میرے لیے مشعلِ راہ

ڈاکٹر سلیم اللہ جندران

ہر اولاد کے لیے والدین کا وجود رہنمائی اور ہدایت کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ پرورش، تعلیم و تربیت، ملازمت ، انتخابِ رشتہ، عقد، اولاد کی تربیت ، سفر، حضر ہر معاملہ میں والدین کا وجودِ مسعود اولاد کے لیے مشعلِ راہ ہوتا ہے۔ حدیثِ پاک کی رو سے والد کی رضا میں رب کی رضا ہے۔ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ، ان کے حق کی پہچان اور ان کی فرماں برداری کا حکم قرآنِ حکیم میں موجود ہے۔ میرے والدِ گرامی محترم محمد حسین صاحب انگلش ٹیچر27 نومبر 2008 کو اِس دارِ فانی سے رخصت ہوئے۔ مجھے اپنے گھر میں سب سے بڑے بیٹے کا درجہ حاصل ہے۔ والدِ گرامی کی حیاتِ مبارکہ میں ہم سب بھائیوں بہنوں کا معمول رہا کہ عشا کی نماز کے بعد ابا جی کے کمرے میں سب بھائیوں بہنوں کی مجلس ہوتی۔والدِ گرامی کے پائوں دبائے جاتے ،یومیہ معاملات پر گفتگو ہوتی۔ اگلے دن کے لازمی معمولات کے بارے ذمہ داریوں کا تعین ہوتا۔ تفویضِ کار ہو جاتی۔اٹھنے سے پہلے ذکر و درود کے ساتھ دعا ہو جاتی۔ اباجی اپنے روزانہ کے تجربات اور گھریلو مشاہدات کے تحت سب بچوں کے لیے ڈائری میں اپنی طرف سے ایک نصیحت نوٹ کروا دیتے جنھیں مرتب کر کے ان کے وصالِ مبارک کے بعد والدین کی یادوں کے دریچے جلد اول میں شامل کر کے شائع کیا جا چکا ہے۔ دفتری و نجی امور کی تکمیل ہو تی یا سفر حضر کے معاملات آپ جہاں بھی ضروری سمجھتے اولاد کی اصلاح فرماتے ۔ اولاد کے نام آپ کے گاہ بگاہ لکھے گئے خطوط بھی میرے لیے اورجملہ اولاد کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوتے۔
والدِ گرامی نے میں سلسلہ نمبر کے تحت مجھے گورنمنٹ مڈل سکول دھنی کلاں میں داخل کروایا اورسکول کے داخل خارج رجسٹر پر اس کا اندراج اپنے دستِ مبارک سے فرمایا،پھر اسی ادارہ میں حصہ مڈل میں ابا جان نے بارہ اپریل کو میرا داخلہ کلاس ششم میںکرایا۔ فرسٹ ایئر میں داخلہ کے وقت خود مجھے گورنمنٹ زمیندار ڈگری کالج بھمبر روڈ گجرات لے گئے ۔ ابا جی نے وہاں پرنسپل کالج، محترم محمد یعقوب صاحب سے ملوایاجنھوں نے بڑا دلچسپ انٹرویو لیا اور مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ گریجوایشن کے لیے بنفسِ نفیس خود گورنمنٹ ڈگری کالج منڈی بہا ئوالدین داخلہ کے لیے میرے ساتھ گئے۔ میرا ایم۔اے انگلش لٹریچر میں داخلہ اپنے آبائی ضلع کے کالج گورنمنٹ کالج گوجرانوالہ میں کروایا۔ میں مرے ایم۔ ایڈ میں داخلہ کے لیے آپ نے مجھے فقط ایک کالج گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن فیصل آباد میں اپلائی کرنے کا حکم دیا ۔ اس وقت ایم ایڈ کے لیے نزدیک ترین ٹریننگ کالجز فیصل آباد ، لاہور، راول پنڈی میں ہی تھے۔ ایجوکیشن کالج فیصل آباد میں ایم۔ ایڈ (آرٹس) کی دس سیٹوں کے لیے ایک سو دس امیدواروں کا انٹرویو تھا ۔ والدین کی دعائوں کا فیضان تھا کہ انٹرویو پینل میں موجود محترم پروفیسر عبدالستار بندیشہ نے انٹرویو کے اختتام پر سلیکشن کی نوید سنا دی تھی۔ الحمد لِلہِ ربِ العالمِین ، اس کالج میں جس دن میری ایم ۔ایڈ کی پہلی کلاس تھی اسی دن بھو آ حسن تحصیل پھالیہ منڈی بہا ئوالدین سے فیصل آباد کے لیے براستہ سیال موڑ پہلی بس سروس کا آغاز ہوا اور مجھے گھر سے کالج تک ڈائریکٹ ٹرانسپورٹ مل گئی۔ نرسری سے پی ایچ۔ڈی تک ،گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن فیصل آباد میں گزرا وہ سال میں اپنی اب تک کی زندگی کا سب سے زیادہ درخشاں عہد سمجھتا ہوں ۔
میں پی ایچ۔ڈی کلاس میں ادارہ تعلیم و تحقیق جامعہ پنجاب میں ۔ کے ریگولر پی ایچ۔ڈی سیشن کا طالب علم تھا۔ ڈاکٹرل پروگرام کمیٹی کی ہدایت تھی کہ ہر پی ایچ۔ڈی سکالر اپنے ریسرچ ورک کی نگرانی کے لیے اپنے چوائس کے طور پر موجود فیکلٹی سے سپروائزر صاحب کا نام تجویز کر کے کمیٹی کو پیش کرے۔ فیکلٹی آف ایجوکیشن میں تمام اساتذہ کرام ہی بڑی محبت و شفقت فرمانے والے تھے۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر قابل اور ممتاز تھے۔ ہم طلبا سبھی سے یکساں کسبِ فیض کرنے والے تھے۔ کلاس پیریڈ میں، فیکلٹی لاونج میں، یونیورسٹی مسجد میں ، انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری میں الغرض جہاں مجھے جو استادِ مکرم بھی ملتے سبھی اساتذہ کرام کو میں نے رہنمائی عنایت فرمانے میں بڑا شفیق اور فیاض پایا تھا۔ سپروائزر کے معاملہ میں فرسٹ چوائس ، سیکنڈ چوائس، تھرڈ چوائس کی بات مجھے ادب کے منافی لگ رہی تھی ۔ میں نے ابا جی سے مشورہ کیا۔ ابا جی نے فرمایا کہ آپ چوائس فارم پر کمیٹی کے نام عرض داشت لکھ دیں کہ مقر کمیٹی جس نگران مکرم کو بھی میرے ریسرچ ورک کے لیے موزوں خیال فرمائے مجھے ان کے سپرد کر دیا جائے۔ ہماری بیس پی ایچ۔ڈی سکالرز کی کلاس میں جب میرے علاوہ تمام ریسرچرز کو محترم سپروائزر صاحبان تفویض فرما دیے گئے اکیلا میرا کیس باقی رہ گیا۔ میں نے اپنا ریسرچ پلان کریکولم (نصابیات) کے ایریا میں پیش کر رکھا تھا ۔ مقر کمیٹی نے ایسوسی ایٹ پروفیسر محترم ڈاکٹر محمد سعید شاہد صاحب کے نام میری الاٹمنٹ فرما دی ، مگر انھوں نے فرمایا کہ جب تک طالب علم خود اپنی رضا مندی (Consent)نہیں دے گا اس وقت تک میں قبول نہیں کروں گا۔ بہر حال مجھے اس کی اطلاع ملی ۔ ابا جی سے مشاورت کے بعد میں نے خوشی خوشی رضامندی (Consent)جمع کرا دی۔ میں محترم ڈاکٹر محمد سعید شاہد صاحب کا پہلوٹھی کا پی ایچ۔ڈی کا طالب علم تھا۔ انھوں نے میرا تحقیقی کام ایسی لگن، محنت ، تسلسل اور توجہ خاص سے کروایا کہ اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے۔لفظ بہ لفظ، سطر بہ سطر انھوں نے میرا مقالہ پڑھا۔ ہر ڈرافٹ گزشتہ ڈرافٹ سے بھرپور بہتر بنانے کی سعی فرمائی۔ کچھ عرصہ کے لیے مجھے اپنے گھر ٹھہرایا۔ مہمانِ خاص ، مہمانِ اعزاز کے طور پر میری خاطر داری فرمائی۔ جس قدر نگرانی و رہنمائی کے لیے وقت کثرت کے ساتھ اور آسانی کے ساتھ مجھے ان سے نصیب ہوا اس کی بھی میری اس کلاس اپنی ہی مثال تھی۔میری ڈاکٹریٹ کی تکمیل کے بعد ایک بار موصوف نگرانِ مکرم پروفیسر ڈاکٹر (ریٹائرڈ) چیئر مین شعبہ ایلیمنٹری ایجوکیشن پنجاب یونیورسٹی لاہور اپنی پوری فیملی کے ساتھ ہمارے غریب خانہ پر بھی تشریف لائے اور میرے اہلِ خانہ کے سبھی افراد کو ایک ایک سوٹ کا تحفہ بھی عنایت فرماگئے۔
الحمد لِلہِ ربِ العالمِین! میرے والدِ گرامی کا میرے تعلیمی کیریئر کے لیے ہر فیصلہ میرے لیے خوشیوں کی برسات اور کامیابی کی ضمانت ثابت ہوا اور میرے لیے ایسی مشعل بنا جس کی روشنی میں تعلیمی منازل قریب سے قریب ترہوتی چلی گئیں۔والدِ گرامی انگلش ٹیچر تھے۔ میرا ایم۔اے انگلش لٹریچر (PU)اور ایم۔اے ٹیچنگ آف انگلش (فارن لینگوایج)(AIOU)کی طرف بڑھنا گھر میں آپ کی رہنمائی کا اثر تھا۔ اسی طرح مزید آپ کے پیارے سب سے بڑے پوتے محمد احمد کا ایم۔فل انگلش لٹریچر کی طرف قدم اٹھانا بھی اسی کا ایک سلسلہ تھا۔آپ انگلش ٹیچر کی حیثیت سے اپنی کلاسز کے طلبا کو انگریزی حروفِ تہجی کی آوازیں (بزبانِ اردو) لکھوایا کرتے ۔ ان سیہجے اور تلفظ ادا کرواتے ۔طلبا کو ان کے نوٹس انگریزی تلفظ اورہجوں کے لیے تیار کرواتے۔ آپ کے انھی نوٹس کو مجھے تدوین و ترتیب دینے کی سعادت ملی اور برادرِ اصغر عظیم اللہ صاحب نے جب اس مسودہ کو مزید ارتقائی انداز میں مدون فرمایا تو ان کا یہ کام ایم۔فل درجہ کے ریسرچ ورک کے لیے منظور ہو گیا۔ اس طرح والدِ گرامی کی رہنمائی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق میں بھی نشانِ منزل قرار پائی۔
زندگی بھر ہم نے کبھی بھی ابا جان سے ایسا لفظ تک نہ سنا کہ شعبہ تدریس کی قدر نہیں ہے۔اس میں تنخواہ کم ہے یاطلبا گستاخ ہیں۔ہمیشہ ابا جی کا پہلا اور آخری انتخاب پیشہ کے حوالہ سے شعبہ تدریس رہا۔ میراآئیڈیل پروفیشن : ٹیچنگ کے عنوان سے ان کی یادوں پر مبنی ایک جامع مضمون والدین کی یادوں کے دریچے (جلد اول)میں شامل بھی ہے۔ اس شعبہ کی طرف ان کا طبعی میلان و رجحان ہی تھا کہ ان کی اولاد سے ان کے تین بیٹے اور ایک بیٹی اس شعبہ سے وابستہ ہیں۔ ان کے سب سے چھوٹے بیٹے تسلیم اللہ صاحب لا گریجوایٹ تھے، مگر والد صاحب نے انھیں بھی سکول ایجوکیشن سے منسلک رکھا۔ وہ ٹیکسٹائل مل میں ایک سال پرچیز آفیسر کے طور پر کام کرتے رہے مگر ابا جان انھیں وہاں سے سکول ایجوکیشن سیکٹر میں لے آئے۔
میرا جب میں پرائمری سکول ٹیچر کے طور پر تقرری کے لیے منڈی بہا ئوالدین انٹرویو تھا ابا جان خود میرے ساتھ تشریف لے گئے ۔ ہر اہم موقع پر ان کا ساتھ مشعلِ راہ رہا۔ میں جب پنجاب پبلک سروس کمیشن سے میری ہیڈ ماسٹر ہائی سکول کے طور پر سلیکشن ہوئی تو گورنمنٹ ہائی سکول موسی کلاں (منڈی بہا ئوالدین) میں مارچ رپورٹ حاضری کے وقت میرے ساتھ تھے اور آپ کے ہمراہ آپ کے ایک اور شاگردِ خاص جناب محمد عارف ناصح صاحب بھی تھے۔ اکیس اکتوبر کو میں اپنے مادرِ علمی گورنمنٹ ہائی سکول دھنی کلاں ٹرانسفر ہو کر آگیا یہاں بھی ابا جان میری پہلی حاضری کے موقع پر میرے ساتھ تشریف لائے ۔ سکول میں تمام سٹاف ہی ابا جان کا شاگرد نظر آ رہا تھا ۔ ان سب نے بڑے تپاک سے استقبال فرمایا۔
الحمد لِلہِ! ابا جی گناہ گاری یا معصیت کے کسی کام کا حکم نہیں دیتے تھے۔ بہرحال ان کا جو بھی حکم ہوتا ہم اسے پورے یقین اور اعتماد کے ساتھ اپنا لیتے۔ اس کی بجا آوری کے سلسلہ میں ہمارا یہ پکا ایمان اور عقیدہ ہوتا کہ ان شا اللہ اس کام میں اللہ کی مدد اور نصرت شامل ہے۔ اس لیے آپ جس راہ کا ہمارے لیے انتخاب فرماتے اس میں ہم کسی تشکیک یا تردد کا شکار نہ ہوتے۔ ان کے وصالِ مبارک کے بعد زندگی کے نت نئے معاملات میں امور کی انجام دہی اور نئی راہوں کے تعین کے لیے باہم مشاورت کرنا پڑتی ہے ۔ کبھی کبھی باہم مشاورت کے بعد نظرِ ثانی کی بھی ضرورت محسوس ہوتی ہے پھر باہم بھائیوں کی مجلس میں ذمہ داریوں کا تعین ہو جانے کے بعد پیروی و نگرانی بھی درکار ہوتی ہے ۔ بات تول کر اور قدم دیکھ کر رکھنا پڑتا ہے ۔جب تک والدِ گرامی حیات تھے وہ جس راہ پر قدم ہمارے ڈال دیتے ہم بے دھڑک بے خطر آگے بڑھتے چلے جاتے۔ انتخابِ راہ اور پھر مسلسل دعا کی انھی کی ذمہ داری ہوتی ۔ چاروں بھائی رات کو مختلف تفویض شدہ امور کے بارے جو بھی صورتِ حال ہوتی آپ سے ہدایات حاصل کر لیتے ۔ آج وہ ہم میں نہیں۔

متعلقہ خبریں