جامعہ وسکانسن میڈیسن کے مرکز برائے دماغی صحت نے اس ضمن میں تحقیق کر

ماہرین نے رضاکاروں کے دو گروہوں کو مطالعے میں شامل کیا جس کے تحت مائنڈ فلنیس کی بنا پر ذہنی تناؤ میں کمی کرنا تھا۔ ایک گروہ کو مائنڈ فلنیس سے گزارا گیا اور دوسرے گروہ میں ایسا نہیں کیا گیا۔ آٹھ ہفتے بعد مائنڈ فلنیس والے افراد کے دماغی اسکین نے تصدیق کی کہ ان کے بدن کے تناؤ میں کمی واقع ہوئی جبکہ دوسرے گروہ میں ایسا کوئی مظہر نہیں دیکھا گیا۔

تحقیق سے وابستہ سائنسداں جوزف وائلگوز نے کہا کہ مائنڈ فلنیس طریقے کو درد اور تناؤ کم کرنے کے لیے کسی دوا کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پاکستان ہو یا امریکا، دونوں جگہ عوام کی بڑی آبادی کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا ہے جن کی دوا ہر ایک کے لیے موزوں نہیں ہوتی۔ یہاں تک کہ صارفین نشہ آور ادویہ سے مدد لے کر ان کی لت میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔

لیکن مائنڈ فلنیس کام کیسے کرتی ہے؟ اس کی وجہ بتاتے ہوئے سائنسدانوں نے بتایا کہ یہ درد کی وجہ بننے والے اعصابی سگنل کمزور کرتی ہے اور درد کی شدت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مائنڈ فلنیس پر مزید تحقیق کرکے اسے درد کش دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کے امریکن جرنل آف سائیکائٹری میں ایک مقالہ شائع کروایا ہے۔

متعلقہ خبریں